Jang e September Ki Yadein
-33%

Jang e September Ki Yadein

PKR 670.00 PKR 1,000.00
Inclusive of Tax
Product Code: UD-AHQ-JAN001
Weight 0.000 kg
Stock Instock
10% Discount! with FREE Shipping, Only for our most loyal readers!

Book Details
BookJang e September Ki Yadein
AuthorAltaf Hassan Qureshi
PriceRs.=1000/-
ISBN978-969-652-127-3
No. of Pages376
FormatHardcover
Publishing Date2018
LanguageUrdu
Customize Your Order Get Bulk Discounts

نام کتاب: جنگِ ستمبر کی یادیں

مصنف: الطاف حسن قریشی

مرتب: ایقان حسن قریشی

جب ۱۹۴۷ء میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو تبھی ارباب بصیرت و حکومت کو احساس تھا کہ بھارت پر قابض برہمنی حکمران طبقہ نو زائیدہ مملکت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہے۔ ۱۹۴۸ء میں بھارتی فوج نے ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تو خدشے نے عملی جامہ پہن لیا۔ یہ غاصبانہ قبضہ تب سے پاکستان اور بھارت کے مابین وجہ نزاع بن چکا۔

اگست ستمبر ۱۹۶۵ء میں وادیٔ کشمیر کے باعث ہی دوسری پاک بھارت جنگ ہوئی۔ گو افواج پاکستان مثل جنت وادی کو پنجہ استبداد سے رہا نہ کروا سکی مگر اس نے محاذ جنگ پر کہیں زیادہ طاقتور دشمن کو ناکوں ناک چنے ضرور چبوا دیے۔ خاص طور پر میدان کار زار لاہور میں پاک افواج نے ایسی بے مثال شجاعت و دلیری کے مظاہرے دکھائے کہ بزدل بھارتی فوجی دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

جب ہمارے جری و دلیر جوان میدان جنگ میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے تھے، تو اہل قلم نے اپنی ولولہ انگیز اور روح پرور نثری و شعری تخلیقات سے ان کا حوصلہ شاداب و توانا رکھا۔ اسی قافلہ اہل دل میں مدیر اعلیٰ اُردو ڈائجسٹ، الطاف حسین قریشی بھی شامل تھے۔ انھوں نے اس زمانے میں جذبات و احساسات سے مملو پُر اثر مضامین لکھے اور اپنے قلم کو تلوار بنا کر دفاع وطن میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

جنگ ستمبر ۱۹۶۵ء کی خاصیت یہ ہے کہ ان سترہ دن میں قومی یکجہتی، ایثار و تعاون، ہمدردی اور محبت کے لازوال مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ یہ یادگار تاریخی واقعات زیر تبصرہ کتاب کے ورق ورق میں اپنی مہک سے دل و دماغ معطر کرتے ہیں۔ ان دل نشیں دنوں کا مشکبار تذکرہ آج بھی قاری کو جذبہ حب الوطنی سے سر شار کر ڈالتا ہے۔

کتاب کے آغاز میں فاضل مصنف نے بہ عنوان ’’تصادم کے بنیادی محرکات‘‘ ایک مربوط و مبسوط مقالہ لکھا ہے۔ اس میں ان اہم عوامل کا گیرائی و گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے جن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت مدمقابل ہوئے۔ خصوصاً نئی نسل کے لیے اس مقالے کا مطالعہ نہایت سود مند رہے گا جسے بھارتیوں سے دوستی کی پینگیں بڑھانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔

مقالہ خصوصی کے بعد اکیس تحریروں میں اہم معرکوں کی داستان قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ یہ معرکے اکھنور، چھمب جوڑیاں، واہگہ، باٹاپور، کھیم کھرن، چونڈہ، دوارکا اور سرگودھا وغیرہ میں انجام پائے۔ اکثر ہماری جنگی تاریخ کا سنہرا باب بن چکے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بھی! ان مضامین کی کھوج اور انتخاب میں مدیر اعلیٰ اُردو ڈائجسٹ کے متین و فہمیدہ پوتے، ایقان حسن قریشی نے بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے حصّہ لیا جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

جناب الطاف حسن قریشی نے نہایت لطافت وفصاحت سے ان معرکوں کا احوال سپرد قلم کیا ہے۔ یہ تحریریں نہ صرف قیمتی معلومات سے بھر پور ہیں بلکہ مٹی سے الفت کے پاک جذبے بھی قاری کو روح پرور لمحوں سے آشنا کرواتے ہیں۔ کتاب کے کچھ اقتباسات بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش خدمت ہیں

بشیر احمد صاحب سے اقتصادیات، سیاسیات اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ وہ صنعت کار ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب فکر و نظر ہیں اور صرف پیٹ سے نہیں، دل و دماغ سے بھی سوچتے ہیں۔ دوران گفتگو کہنے لگے

’’یہ سر سبز و شاداب چمن ہمارا اپنا ہے۔ ایک مستعد کسان اور ایک فرض شناس مالی کی طرح ہمیں اس کے ہر خوشے اور ہر پھول کی رکھوالی کرنی ہے۔ میںنے اہل جرمنی کو اپنی قوم کے لیے کام کرتے دیکھا ہے۔ شب و روز مشین کی طرح، ایک دو مہینے نہیں، سال ہا سال خارجی دباؤ کے بغیر۔ میںجس سے بھی ملا، اُسے ایک ہی دُھن میں مگن پایا کہ میں اپنے ملک کی دولت، شہرت اور عظمت میں کس طرح اضافہ کر سکتا ہوں۔ میں نے برسوں اُن میں سے کسی کو بے کار نہیں دیکھا۔ قریشی صاحب! ہماری قوم تو جرمن قوم سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی ایک لمحہ ضائع نہیں کرے گی۔‘‘(صفحہ۸۶)

٭٭٭

جب ہمارے طیارے امر تسر کی طرف لپکے تھے، تب طیارہ شکن توپیں بہت دیر تک آگ اُگلتی رہی تھی۔ یہ توپیں بھی ہمارے قریب ہی نصب تھیں۔ ایک گولی بھی تو نشانے پر نہ لگی۔ ہمیں فکر ہوئی کہ ان اناڑی فوجیوں کی زد میں کہیں ہم نہ آ جائیں۔ گولے ہمارے بالکل نزدیک گر رہے تھے۔ اگرچہ دھما دھم کی کرخت آوازوں سے دماغ ماؤف ہو گیا تھا، لیکن بھارتی فوجیوں کی ’حسن کارکردگی‘ دیکھ کر مجھے حالی کی ایک نطم یاد آ گئی جو چھٹی جماعت میں پڑھی تھی۔ اُس نظم میں دکھایا گیا تھا کہ کوئی امیر زادہ اپنے مصاحبوں کے ہمراہ ایک دن صحرا میں تیر اندازی کے لیے نکلا۔ اُسے تیر کمان سے کچھ واقفیت نہیں تھی۔ وہ تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا اور ایک بھی تیر نشانے پر نہیں لگتا تھا۔ اس کے باوجود مصاحب تعریف میں رطب اللسان تھے۔ ایک ظریف بھی قریب ہی بیٹھا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور خاک کے اُس تودے پر جا بیٹھا جو امیر زادے کا ہدف تھا۔ اس پر خوشامدیوں اور امیر زادے نے بہت شور مچایا کہ کیوں مرنے لگا ہے؟ کیا تجھے اپنی زندگی عزیز نہیں؟ اس پر ظریف کا جواب مجھے آج بھی یاد ہے۔

زد سے ان بے پناہ تیروں کی 

کہیں جاندار کو امان نہیں

مجھ کوہر پھر کے شش جہت میں حضور 

امن کی اک جگہ ملی ہے یہیں

مجھے بھارتی سینا اور امیر زادے میں کوئی فرق نظر نہ آیا۔ اُن کے گولوں سے بچنے کی صحیح جگہ تو پاکستانی طیاروں میں تھی جہاں پہنچنا ہمارے لیے نا ممکن تھا۔(صفحہ ۱۸۳)

یہ شاندار کتاب جمہوری پبلی کیشنز نے بڑے دیدہ زیب انداز میں شائع کی ہے۔ کاغذ نہایت عمدہ ہے اور چھپائی بھی اعلیٰ! گوناگوں خوبیوں کے باعث قیمت ایک ہزار روپے مناسب ہے۔ تاریخ پاکستان اور جنگ ستمبر سے دلچسپی رکھنے والے قارئین اسے مرغوب و دل پسند کتاب پائیں گے۔



Note:

1) Add the product to Cart. Then Go to your cart at the top bar of the page. And checkout.

2) Choose Guest Checkout

3) Fill in your Name, Email, Cell phone, Address, Country and City. Please ignore the bug in which you have to choose Pakistani city. Just fill anything.

4) Choose Direct Pick Up from factory as Shipping Method. Don't worry you will get it at home every month.

5) Choose Pay via Credit/ Debit Card in payment method [only in case of online payment].

6) Choose Non-Filer in Tax Information

7) Add any more details if you want to mention, in the comment section and Confirm Order. It will take you to HBL Payment Gateway [only in case of online payment].

8) Fill in your card details and pay [only in case of online payment].

Let us know if you face any issue.


Write a review

Note: HTML is not translated!

Rating Bad           Good