Mulaqatein Kya Kya!
-33%

Mulaqatein Kya Kya!

PKR 1,000.00 PKR 1,490.00
Inclusive of Tax
Product Code: UD-AHQ-MUL002
Weight 0.000 kg
Stock Instock
13% Discount! with FREE Shipping, Only for our most loyal readers!
Book Details
BookMulaqatein Kya Kya!
AuthorAltaf Hassan Qureshi
PriceRs.=1490/-
ISBN978-969-652-040-5
No. of Pages392
FormatHardcover
Publishing Date2016
LanguageUrdu
Customize Your Order Get Bulk Discounts

نام کتاب: ملاقاتیں کیا کیا!

مصنف: الطاف حسن قریشی

مرتب: ایقان حسن قریشی

’’ ملاقاتیں کیا کیا‘‘ اُردو ڈائجسٹ کے مدیرِاعلیٰ محترم الطاف حسن قریشی کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ ۲۳ تاریخ ساز ہستیوں سے ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں خادم الحرمین شاہ فیصل، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن، جنرل محمد ضیاالحق، سلیمان ڈیمرل، جسٹس ایس اے رحمان، جسٹس حمودالرحمن، جسٹس اے آر کارنیلس، چودھری محمد علی، خان آف قلات، ڈاکٹر سید عبداللہ، اے کے بروہی، حکیم محمد سعید، پروفیسر حمید احمد خاں، غلام رسول مہر، مولوی تمیزالدین خان، ڈاکٹر خدیجہ فیروز الدین، ایس ایم ظفر، ڈاکٹر عبدالرحمن یارکر، مولانا ظفرانصاری، قدرت اللہ شہاب اور ائیرمارشل اصغر خاں کے انٹرویوز شامل ہیں۔

قریشی صاحب نے انٹرویوز کے ساتھ تفصیلی حواشی بھی لکھے ہیں جن کی بدولت ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ دورِجدید کی تاریخ میں ڈھل گئی ہے اور اپنے عہد کی ایک یادگاردستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔

میں نے ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ کا مطالعہ شروع کیا تو اس کتاب نے مجھے اپنے سحر میں یوں جکڑا کہ رات گئے تک پڑھتا چلا گیا۔ بلاشبہ یہ کتاب ایسی نثری نظم ہے جسے قریشی صاحب کی شعوری کاوش نے پاکستان کی مستند تاریخ میں ڈھال دیا ہے۔

قریشی صاحب نے اپنے انٹرویوز میں ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ وہ سب سے پہلے قاری کو اردگرد کے ماحول اور انٹرویو کی راہ میں آنے والی مشکلات سے یوں روشناس کراتے ہیں کہ قاری چشمِ تصور میں اُن کے ہم قدم اور ہم بزم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ ندرتِ خیال اور ادبی گہرائی و گیرائی سے انٹرویو دینے والے کی اس طرح سے تصویرکشی کرتے ہیں کہ وہ شخصیت زندہ و متحرک ہو جاتی ہے۔ شخصی عکس کے بعد وہ انٹرویو دینے والے کے خاندانی پس منظر اور حالاتِ زندگی سے متعارف کرواتے اور پورے ماحول کی ترتیب و تزئین کے بعد روئے سخن انٹرویو کی اصل روح کی طرف موڑتے ہیں۔

اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے بل پر عالمِ اسلام کو متحد رکھنے کے لیے کوشاں خادم الحرمین شریفین جلالۃ الملک شاہ فیصل کی شخصیت کی قریشی صاحب نے اِن الفاظ میں تصویرکشی کی ہے۔

’’سوچ کی آنچ سے دمکتا ہوا چہرہ، آنکھوں کی پہنائیوں میں شعوروآگہی کے اجالے، پیشانی پر کائناتِ احساس سمٹی ہوئی، قریۂ دل کی وسعتیں شوق و جنوں سے آشنا، قامت کی بلندیوں پر عزم و یقین کے آشیانے، گفتگو میں نرمی، چال میں میانہ روی اور طورطریق میں درویشی و فقیری۔‘‘

ماضی کی معروف اگر تلہ سازش کیس ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ایس اے رحمان کی شخصیت کا عکس یوں دکھاتے ہیں۔:

’’جسٹس صاحب متانت و شفقت کا ایک حسین پیکر ہیں۔ اُن کی آنکھوں سے مسکراہٹوں کے جَھرنے پُھوٹتے ہیں۔ چہرے پر شگفتگی اور سنجیدگی کچھ ایسے تناسب سے عکس ریز ہے کہ زندگی ایک سہانا خواب محسوس ہوتی ہے۔ لب و لہجے میں شہد کی مٹھاس اور زبان شائستگی میں دُھلی ہوئی۔ ان سے گھنٹوں باتیں کیجیے، کیا مجال ایک لمحے کے لیے بھی آپ بور ہوں۔ الفاظ میں اگر خلوص کی چاشنی اور محبت و شفقت کا رس بھرا ہو، تو وہاں اکتاہٹ کا کیا کام؟‘‘

چودھری محمد علی سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ستمبر۱۹۶۲ء میں چودھری صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی اور محسوس ہوا وہ تو عام سے آدمی ہیں۔ ان میں کوئی ’’بڑاپن‘‘ نہیں۔ ایک عام آدمی کی طرح باتیں کرتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، دوسرے کی بات بڑے تحمل سے سنتے ہیں اور ایک استاد کی طرح اپنی بات ذہن نشین کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا لباس سادہ، شلوار اور شیروانی، طوراطوار بھلے مانسوں کے سے، نگاہوں میں خلوص اور شفقت کے تیرتے ہوئے جذبات اور پیشانی پر محنت، فراست اور وسعتِ مطالعہ کے گہرے نقوش۔ یقین ہی نہ آتا تھا سادگی کا یہ پیکر کبھی مسندِاقتدار پر بھی بیٹھا ہوگا۔‘‘

ترکی کے وزیراعظم جناب سلیمان ڈیمرل کی شخصیت کے بارے میں قریشی صاحب لکھتے ہیں۔

’’جناب ڈیمرل کا چہرہ ورقِ سادہ کی طرح شفاف تھا۔ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ کی طرح داریاں اس گُلِ دشت کو چھو کر گزری ہیں۔ ساحلِ جذبات بھی کٹاپھٹا نہیں تھا، بس ایک پُرسکون سمندر تھا جس کی گہرائیاں اس میں اترے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی تھیں۔ جناب ڈیمرل کا بھاری بھرکم جسم، ان کی ٹھہری ہوئی ہوشمند نگاہیں اور سر کے اندر دور تک جزیرہ نما بناتی ہوئی کشادہ پیشانی مجھے دعوت فکر دے رہی ہیں۔ ان کی شخصیت سے خوف کے بجائے اُنسیت سی محسوس ہونے لگی۔‘‘

جسٹس حمودالرحمن کی شخصیت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں: ’’جسٹس صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ٹیلی فون پر ہونے والی باتوں سے ان کا جو تاثر قائم ہوا تھا، وہ اس کے بڑے قریب نکلے۔ ابھری ہوئی فراخ پیشانی، ان کے شفاف ذہن کی آئینہ دار تھی اور طبیعت کی شگفتگی چہرے کو شاداب کیے ہوئے تھی۔ بڑی اور گہری آنکھوں سے ان کی بے پناہ وسعتِ نظر اور قوتِ مشاہدہ کا احساس ہوتا تھا۔ چہرہ انسانی کردار کا ایک شفاف آئینہ ہے اور بعض چہرے ماہ وسال کی گردش کے درمیان بھی معصوم سے لگتے ہیں۔‘‘

’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں صرف انٹرویو دینے والے ہی نہیں خود محترم الطاف حسن قریشی کی شخصیت کا پَرتو بھی نظر آ جاتا ہے۔ بعض جگہ بے ساختگی سے ہمکنار ان کا قلم، ان کی شخصیت کے اُن گوشوں کو بھی بے نقاب کر جاتا ہے جنھیں شاید وہ شعوری طور پر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، لکھتے ہیں:

’’میں نے پوچھا: ’’کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟‘‘

سنتری صاحب نے اس بار بھی خوش خلقی سے صرف اتنا کہا ’’آپ اندر نہیں جا سکتے، البتہ میں آپ کی چِٹ انھیں دے آتا ہوں۔ مجھے آپ پر رحم آ گیا ہے، ورنہ چٹ پہنچانا میرا کام نہیں۔‘‘

’’رحم‘‘ کا لفظ سن کر میرا خون کھولنے لگا۔ رحم! عزتِ نفس اور انسانی وقار اور حمیت کے لیے سم قاتل ہے۔ آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کسی انسان پر رحم کھانے کا۔ رحم، ایک فرد کی سب سے بڑی ذلت اور سب سے بڑی توہین ہے۔ اگر آپ کر سکتے ہیں تو مجھ سے محبت کیجیے، ہمدردی کیجیے۔ مجھ سے نفرت کرنے کا بھی آپ کو پورا حق ہے، لیکن خدا کے لیے مجھ پر ترس مت کھائیے۔‘‘

سیدابوالاعلیٰ مودودی سے قریشی صاحب کی عقیدت و محبت، اُن سے لیے گئے انٹرویو میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک مدح سرا کا اپنے ممدوح سے لیا گیا انٹرویو ہے۔ اس کے سوالات حرف حرف پڑھتے جائیے، اُن کی وہی اُٹھان نظر آئے گی جو دوسرے انٹرویوز میں نظر آتی ہے، لکھتے ہیں:

’’۱۲؍مئی۱۹۵۳ء کی صبح اخبار آیا تو میری نگاہ اس سرخی پر ٹھہر گئی: ’’ابوالاعلیٰ مودودی کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنا دی‘‘ مجھے ماضی کے واقعات یاد آنے لگے اور مودودی صاحب کا باوقار، شگفتہ اور سرخ و سفید چہرہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ میں اسی کیفیت میں صبح کی سیر کے لیے نکل کھڑا ہوا اور مسلم ٹائون کے قریب نہر کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ میرے قدم بوجھل ہوتے گئے۔ آنکھوں سے سیلِ اشک بہ نکلا، دل جذبات کا محشرستان بن گیا اور غمِ دل غزل میں دُھلنے لگا۔


وہ اور ہی ہوں گے کم ہمت آلام و مصائب سہ نہ سکے

شمشیر و سناں کی دھاروں پر جو حرفِ صداقت کہہ نہ سکے

تھے تم سے زیادہ طاقت ور ، پر چشمِ فلک نے دیکھا ہے

توحید کا طوفاں جب اُٹھا ، وہ مدِمقابل رہ نہ سکے


مولانا سے جیل میں ملاقات کی منظرکشی یوں کرتے ہیں: ’’اب یہ خواہش دل میں ابھری کہ مولانا کو ایک نظر دیکھا جائے، جیل میں اُن سے ملاقات کا انتظام ہو گیا، ہم چار ساتھی اُن کے سامنے کھڑے تھے۔ انھوں نے وہ لباس زیبِ تن کر رکھا تھا جو موت کی سزا پانے والے قیدی پہنتے ہیں۔ ہم سب افسردہ تھے اور ہمارے چہروں پر موت کی اداسی چھائی ہوئی تھی جبکہ مولانا کے چہرے پر اُمید کی شفق پھیلی ہوئی تھی۔ میں عالمِ حسرت ویاس میں پکار اُٹھا:

’’مولانا اب کیا ہوگا؟‘‘

انھوں نے پرسکون اور پُراعتماد لہجے میں جواب دیا:

’’اللہ تعالیٰ مجھے زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے زندگی نہیں چھین سکتی اور اگر میرا وقت آن پہنچا ہے، تو کوئی شخص مجھے زندگی دے نہیں سکتا۔ اس میں بھلا گھبرانے کی کیا بات ہے؟‘‘

ان چند جملوں نے مجھے حوصلہ دیا اور میں ایک نئے عزم کے ساتھ واپس آیا۔۔۔۔۔ ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ وقفے وقفے سے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کے سبب مولانا کی چھبیس مہینوں کے بعد رہائی عمل میں آ گئی۔ اُس وقت یہ شعر بے اختیار میرے ہونٹوں پر آ گیا ؎


سزا کی طرز نئی ڈالیے کہ دیوانے

مقامِ دار و رسن سے گزر بھی آئے ہیں


جسٹس حمودالرحمن کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے ایک نہایت دلچسپ واقعہ بیان کیا:

’’میرے والدمحترم دائودالرحمان بنگال، بہار اور اڑیسہ میں پہلے مسلمان سول سرجن تھے۔ میں ابھی چار پانچ سال ہی کا تھا کہ ان کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ میرے چچا شمس العلماء الرحمان اور میرے بڑے بھائی ودود الرحمان نے میری نگہداشت کی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مجھے کلکتہ کے ایک مشہور انگریزی اسکول میں داخل کرایا گیا۔ یہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے میرے مزاج کو ایک خاص رنگ میں ڈھال دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ ہمیں جماعت کے کمرے میں ’فادر‘ سبق پڑھا رہا تھا۔ سبق کے دوران اس نے کہا کہ وکٹوریہ میموریل، تاج محل سے زیادہ خوبصورت ہے۔ میں اپنی نشست پر کھڑا ہو گیا اور فادر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے تاج محل نہیں دیکھا، اس لیے وکٹوریہ میموریل کا تاج محل سے مقابلہ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میموریل کو تاج محل سے کوئی نسبت نہیں۔ فادر کو غصہ آ گیا اور اس نے مجھے پیٹنا شروع کر دیا۔ میں مار کھاتے ہوئے یہی کہتا رہا کہ آپ کی اس مار سے غلط بات کو صحیح نہیں مان سکتا۔ میرے اندر اسی روز غلط بات کے خلاف ڈٹ جانے کا داعیہ مستقل حیثیت اختیار کر گیا۔ اس واقعے نے مجھے آئندہ زندگی میں تشدد کے خلاف نبردآزما ہونے کے لیے تیار کیا اور میں نے زندگی کے ہر محاذ پر جبر اور تشدد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اسی فادر کے کردار کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیجیے کہ اگلے سال وہ تاج محل دیکھنے آگرہ گیا اور اس نے واپس آ کر بھری کلاس میں مجھ سے معافی مانگی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ تاج محل، میموریل سے بہت زیادہ خوبصورت ہے۔ فادر کے اس اعتراف نے مجھے بے حد متاثر کیا اور میں اس سے بے پناہ محبت کرنے لگا۔‘‘

قریشی صاحب نے جنرل ضیاالحق سے یہ نازک سوال کیا: ’’آپ نے کب محسوس کیا کہ بھٹو کی حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘

’’جون کے آخری ہفتے میں‘‘ وہ مختصر جواب دے کر خاموش ہو گئے۔

میں نے دھیرے دھیرے واقعات کریدنا شروع کیے تو انھوں نے مزاحمت نہیں کی اور تفصیلات کی تہیں کھولنا شروع کر دیں۔ رات کے ڈیڑھ بجے ایک انتہائی پراسرار داستان سننے میں عجب لطف آ رہا تھا۔ میں نے سادگی سے پوچھا ’’باہر کی دنیا آپریشن فیئر پلے کو عجیب نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ صرف دو گھنٹوں میں پورا ایک دور ختم ہو گیا۔ آپ نے اتنی حیرت انگیز منصوبہ بندی کیسے کی؟‘‘

انھوں نے ٹھہر ٹھہر کر جواب دینا شروع کیا۔ ’’قریشی صاحب! جس مکان میں آپ بیٹھے ہیں، بس یہیں سارا منصوبہ تیار ہوا۔ وہ بھی آج ہی کی طرح ایک خاموش اور پرسکون رات تھی، مگر اس کے بطن سے سربستہ راز تخلیق ہو رہے تھے۔۔۔۔۔ جون کے پہلے عشرے میں ہمیں احساس ہو گیا حکومت مذاکرات میں مخلص نہیں، چناںچہ جون کے وسط میں اہم ترین فوجی افسروں کا ایک اہم اجلاس اسی مکان میں ہوا۔ میں نے تمام کورکمانڈروں کو رات کے کھانے پر بلایا اور ساری تفصیلات ان کے سامنے رکھ دیں۔ ہم سب نے اتفاق رائے سے طے کیا اب آپریشن ناگزیر ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کو ابھی مزید مہلت دینی چاہیے۔ اگر معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جاتے ہیں، تو فوج کا سر درد ختم ہو جائے گا اور اگر حالات کے بگاڑ میں کچھ اور شدت ہو جاتی ہے تو آپریشن سے اجتناب نہیں کرنا چاہیے۔ اسی رات آپریشن کا نام ’فیئرپلے‘ تجویز ہوا۔ یہ بھی طے پایا آپریشن کے وقت کا تعین چیف آف اسٹاف کریں گے۔ ہم نے یہ راز اپنے آپ تک محدود رکھا اور سی جی ایس کو بھی ہمراز نہیں بنایا۔ میرے اسٹاف افسر بھی اس آپریشن سے کلیتاً بے خبر تھے۔

’’جون کے آخری دنوں میں مسٹربھٹو نے جرنیلوں کو کابینہ کے اجلاس میں بلانا شروع کر دیا۔ بعض مواقع پر عجیب و غریب باتیں سامنے آئیں۔ ایک رات مسٹر کھر اور مسٹرپیرزادہ نے کہا اپوزیشن شرارت سے باز نہیں آرہی اور اس کے لیڈر فتنے اٹھا رہے ہیں، ہم ان سب کو قتل کر دیں گے۔ ٹکاخان کے لب و لہجے میں بے حد تیزی تھی۔ ان کا ارشاد تھا دس بیس ہزار افراد پاکستان کی خاطر قتل بھی کر دینا پڑیں تو یہ کوئی بری بات نہیں ہو گی۔ مسٹر بھٹو باربار کہتے: جنرل صاحب! دیکھا آپ نے میری کابینہ کا موڈ! میں ان حالات میں اپنے وزیروں کا ساتھ دینے کے سوا اور کیا کر سکتا ہوں؟

ایک رات کابینہ کی پھر میٹنگ ہوئی اور بھٹو صاحب خاصے پریشان نظر آئے۔ دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد بولے آئیے جنرل صاحب! آپ بھی اقتدار میں شامل ہو جائیں۔ زیادہ تر اختیارات آپ کے ہاتھ میں ہوں گے۔ بس ایک بار اپوزیشن کو چَھٹی کا دودھ یاد دلا دیا جائے۔ اس نوع کی باتیں اب حددرجہ ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھیں۔ پہلی جولائی کو یہی تماشا رات ڈیڑھ بجے تک لگا رہا۔ دوسری جولائی کو بھی اسی ڈرامے کی ریہرسل ہوتی رہی۔ تین جولائی کی رات میرے اعصاب نے حقیقی خطرہ بھانپ لیا، چناںچہ میں بڑے اقدام کے امکانات کا جائزہ لینے لگا۔ حکومت کی ذہنی کیفیت میرے سامنے تھی۔ اب صرف اپوزیشن کے نقطہ نظر کے ظاہر ہونے کا انتظار تھا۔ شام پانچ بجے مجھے معلوم ہوا نوابزادہ نصراللہ خان پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں، چناںچہ اسی وقت پوری رپورٹ حاصل کی گئی۔ ان کا ردعمل وہی تھا جس کی مجھے توقع تھی، چناںچہ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں نے راولپنڈی سے باہر احکام جاری کر دیے رات بارہ بجے ’’ڈی ڈے‘‘ ہو گا۔۔۔۔۔ رات بارہ بجے میں خود جنرل ہیڈکوارٹرز گیا اور پورے آپریشن کی نگرانی کرتا رہا۔ اس رات ممتازبھٹو بڑی دیر تک پرائم منسٹر ہائوس میں رہے۔ جب گھر پہنچے تو فوج کی پراسرار نقل و حرکت دیکھی۔ ادھروزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل امتیاز نے فوجی دستوں کو غیرمعمولی طور پر سرگرم پایا۔ اس نے مجھے فون کیا اور میں نے بتا دیا یہ سب کچھ میرے حکم سے ہو رہا ہے اور تم ہدایات لینے کے لیے میرے پاس چلے آئو۔ اتنے میں مسٹرممتازبھٹو گرین لائن پر مسٹربھٹو سے رابطہ قائم کر چکے تھے۔ وزیراعظم نے مجھ سے بات کی۔ میں نے کہا: 

’’سر! اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا تھا۔ اب آپ ہم سے تعاون کیجیے۔ دوسری صورت میں ہمیں طاقت استعمال کرنا پڑے گی۔‘‘

’’نہیں، یہ نوبت نہیں آئے گی۔‘‘ انھوں نے پرسکون لہجے میں کہا۔

’’آپ میرے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’بس آپ کو حراست میں لیں گے، صبح تک چکلالہ رکھیں گے اور پھر مری لے جائیں گے۔‘‘

’’میرے بچے آج رات آئے ہیں اور میں ان سے پوری طرح مل بھی نہیں سکا ہوں۔‘‘

’’آپ آرام سے یہ رات پرائم منسٹر ہائوس میں گزارئیے اور اگلے دن مری کے لیے تیار ہو جائیے۔

’’ہاں، ہاں! شکریہ!‘‘

ٹیلی فون بند ہو گیا اور تاریخ کا ایک دلچسپ باب بھی۔‘‘

ذوالفقار علی بھٹو سے انٹرویو میں پاکستانی تاریخ کے بعض ایسے گوشے بھی بے نقاب ہوئے جن پر بے خبری کی چادر تنی تھی۔ قریشی صاحب لکھتے ہیں: اب ہم انتہائی نازک مسئلے پر گفتگو کرنے چلے تھے۔ میں نے اختصار سے پوچھا ’’کیا بھارت واقعی دل سے پاکستان سے دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے؟‘‘

سوال سن کر بھٹو نے آنکھیں بند کر لیں، سیٹ پر آگے کی طرف جھکے اور پھر مجھ پر نظریں جماتے ہوئے کہنے لگے:

’’میرے خیال میں یہ سب ایک فریب ہے۔ ہماری شدید خواہش ہے ہمسایہ ملک سے ہمارے تعلقات نہایت اچھے ہوں لیکن بھارت کی نیت ٹھیک نہیں لگتی۔ ہندوذہنیت کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس نے برصغیر میں ہر نئی ابھرنے والی تہذیب کو اپنے اندر جذب کر کے اس کی انقلابی اور تحریکی قوت ختم کر ڈالی۔ اس ہندوتہذیب نے بدھ مت کو نگلا، جین مت کی روح کھینچ لی اور یہی سلوک اسلامی تہذیب کے ساتھ بھی کرنا چاہا، لیکن اسلامی تہذیب اتنی جاندار ثابت ہوئی کہ ہندوتہذیب کے تمام ہتھکنڈے اور سارے حربے ناکام رہے۔۔۔۔۔ ہندو برہمن نے پاکستان کا وجود کبھی تسلیم نہیں کیا، تاہم اب اس کی مسلم کُش پالیسی نے ایک نیا روپ دھار لیا ہے۔ ہندوسیاست دان تعاون اور دوستی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ ان کا مقصد پاکستان کی صورت میں ہندوتہذیب کے خلاف تعمیر ہونے والے قلعے میں شگاف ڈالنا ہے۔ ہم نے ان پر یہ حقیقت باربار واضح کی ہے کہ تعاون صرف دو برابر ملکوں کے درمیان ہو سکتا ہے۔ تم جب تعاون کی بات کرتے ہو تو تمھارے پیش نظر پاکستان کی تسخیر ہے۔۔۔۔۔ ہم آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں اور بہت جلد ہمیں ایک انتہائی نازک اور اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ ہم بھارت کے دامِ فریب سے اچھی طرح واقف ہیں اور تعاون کے نام پر پاکستان کا وجود ہرگز خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ ہم انشااللہ حق اور صداقت کی فیصلہ کن جنگ لڑیں گے۔ اگر بھارت نے ہمیں للکارنے کا ایک بار پھر ارتکاب کیا۔ ہمیں اپنی آزادی اور کشمیر کے پچاس لاکھ انسان عزیز ہیں۔ ہمیں اپنی عزت اور اپنی تہذیب عزیز ہے۔ حالات بتا رہے ہیں ان کی حفاظت کے لیے ہمیں ایک بار پھر میدان میں اترنا پڑے گا۔۔۔۔۔‘‘

قریشی صاحب اسی انٹرویو کے حاشیے میں لکھتے ہیں ’’یہ انٹرویو اردوڈائجسٹ کے جون ۱۹۶۶ء کے شمارے میں شائع ہوا اور تمام قومی اخبارات کی توجہ کا مرکز بنا۔ پنجاب کے سرکاری اور فوجی حلقوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے انگریزی اخبار ’پاکستان ٹائمز‘ نے وزیرخارجہ کے انٹرویو کے بھارت سے متعلق اقتباسات شہ سرخیوں میں یکم جون کو شائع کر دیے۔ آٹھ کالمی سرخی تھی ’ہم انڈیا کی بالادستی کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔‘ یکم جون کی صبح وزیرخارجہ چھ بجے فوکرفلائٹ پر لاہور سے راولپنڈی روانہ ہوئے۔ انھیں طیارے ہی میں پیغام دیا گیا کہ فیلڈمارشل ایوب خاں آپ کو یاد فرما رہے ہیں۔ بھٹو صاحب کوئی ساڑھے سات بجے ایوان صدر پہنچے۔ میں کوئی آٹھ بجے دفتر آیا، تو میرے کمرے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ لپک کر میں نے ریسیور اٹھایا۔ دوسری طرف سے آواز آئی کیا آپ الطاف حسن قریشی ہیں؟ میرے اثبات میں جواب دینے پر وہ صاحب کہنے لگے میں ایوان صدر کا آپریٹر ہوں اور جناب وزیرخارجہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ چند منٹ بعد وہ لائن پر آ گئے اور قدرے کرخت آواز میں مخاطب ہوئے: یہ تم نے کیا غضب کیا کہ میری ’آف دی ریکارڈ‘ گفتگو شائع کر دی ہے۔ جس پر صدر صاحب سخت برہم ہیں اور تمھارے اور اُردوڈائجسٹ کے خلاف ایکشن لینے پر بضد ہیں لیکن میں انھیں اس انتہائی اقدام سے روکنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تم فوراً بھارت کے حوالے سے مجھ سے منسوب کی گئی باتوں کی تردید شائع کر دو۔

میں نے جواب میں کہا آپ نے راولپنڈی سے لاہور کی پرواز کے دوران قطعیت سے کہا تھا کہ ہم کسی صورت میں بھارت کی بالادستی تسلیم نہیں کریں گے اور ضرورت پڑی تو اپنی تہذیب اور اپنی آزادی کے تحفظ کی خاطر میدان جنگ میں اتریں گے۔ ابھی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ لائن کٹ گئی۔ سمن آباد میں جناب علامہ علاء الدین صدیقی کی رہائش گاہ ہمارے دفتر سے قریب تھی۔ وہاں سے علامہ صاحب کا اردلی ہمارے دفتر آیا اور بتایا ہمارے ہاں وزیرخارجہ کا فون آیا ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ قاصد کے ہمراہ چلنے سے پہلے میں نے اپنا ٹیلی فون چیک کیا۔ اب اس میں کرنٹ آ رہا تھا، چناںچہ میں نے ایوان صدر کے نمبر پر کال بک کرائی اور اردلی صاحب کو رخصت کر دیا۔ چند ساعتوں بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور بھٹو صاحب سے رابطہ قائم ہو گیا۔ اس بار ان کا لہجہ خاصا بدلا ہوا تھا۔ انھوں نے آہستگی سے کہا اردوڈائجسٹ میں شائع شدہ انٹرویو کے باعث میں کابینہ سے نکال دیا گیا ہوں۔ میں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: آپ اپنے موقف پر قائم رہے یا سرنڈر کر گئے تھے۔ جواب میں کہا میں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے اور اپنے وقار پر کوئی حروف نہیں آنے دیا۔ تب میں نے ان سے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا اب آپ ہی ہمارے مستقبل کے لیڈر ہوں گے۔

۲۰ دسمبر ۱۹۷۱ء کو بھٹو صاحب سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدرپاکستان کے منصب پر فائز ہوئے تو ان کی حکومت نے تنقیدی مضامین لکھنے اور شائع کرنے کے جرم میں ۵؍اپریل ۱۹۷۲ء کی رات راقم الحروف، ڈاکٹر اعجازحسن قریشی اور مجیب الرحمان شامی مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیے گئے۔ اُردوڈائجسٹ اور زندگی کے ڈیکلریشن منسوخ ہوئے اور پریس ضبط کر لیا گیا۔

جون کے مہینے میں لاہورہائی کورٹ نے ہماری گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے دیا اور یوں ہماری رہائی عمل میں آئی۔ ملک بھر میں ہماری گرفتاری پر پوری صحافتی برادری اور اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس طرح بھٹو صاحب کو ایک انتہائی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

سقوطِ ڈھاکہ کے فعال کردار شیخ مجیب الرحمن کے سفید جھوٹ کا پردہ یوں چاک کرتے ہیں کہ قاری بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے، لکھتے ہیں:

’’۴ جون کو مقررہ وقت پر شیخ صاحب کی اقامت گاہ پر جا پہنچا۔ وہ جلد ہی تشریف لے آئے اور مجھے سینے سے یوں لگایا جیسے برسوں کے شناسا ہوں، پھر محبت بھرے لہجے میں کہنے لگے:‘‘

’’قریشی صاحب! میں آپ کو مدت سے جانتا ہوں۔ اس وقت سے جب میں دوسری دستورسازاسمبلی کا رکن منتخب ہوا تھا اور آپ ان دنوں اسمبلی میں آیا کرتے تھے۔‘‘

میں کہنا چاہتا تھا کہ میں تو اس وقت صحافت میں تھا ہی نہیں، مگر شیخ صاحب کی رواںدواں باتوں نے کچھ کہنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ وہ کہے چلے جا رہے تھے:

’’آپ اس وقت بھی اعلیٰ پائے کی رپورٹنگ کرتے تھے اور اسی زمانے میں آپ سے کئی بار ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے سیاسی معاملات میں ہمیشہ گہری دلچسپی لی ہے۔‘‘

میں نے ایک بار پھر کچھ کہنے کا حوصلہ کیا۔ ہونٹ کھلنے بھی نہ پائے تھے کہ شیخ صاحب کی زبان فیض ترجمان نے ’’حقائق‘‘ سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔

’’قریشی صاحب! آپ تو گول میز کانفرنس میں تقریباً ہمارے ساتھ ساتھ رہے۔ وہاں آپ نے میرے بارے میں وزارت عظمیٰ کی باتیں تو سنی ہوں گی؟‘‘

’’جی ہاں مختلف قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔‘‘

’’قریشی صاحب! گول میزکانفرنس میں چودھری محمد علی، نوابزادہ نصراللہ خاں اور مودودی پہلے ہی ایوب سے سازباز کر چکے تھے۔‘‘

’’آپ کے پاس اس کا کیا ثبوت ہے۔‘‘ میں نے رک رک کر پوچھا۔

’’قریشی بھائی! آپ بھی ثبوت مانگتے ہیں؟ آپ کو تو سب کچھ معلوم ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جونہی ایوب خاں نے دو نکات کا اعلان کیا، چودھری محمد علی نے فوراً صدر کو مبارک باد دی۔ نوابزادہ اور مودودی کا بھی یہی طرزِعمل تھا۔ میں سمجھ گیا یہ کھلی سازش ہے اور میں نے گرج کر پوچھا تھا یہ کیا ہو رہا ہے۔‘‘

’’مگر مجیب صاحب! مجھے تو ان واقعات میں کوئی سازش نظر نہیں آئی تھی۔‘‘

’’وہ آپ کو نظر آئیے یا نہ آئے، میں کہتا ہوں کہ وہ ایک سازش تھی، ورنہ ایوب خاں کے اعلان کا اس قدر خیرمقدم ہرگز نہ کیا جاتا۔‘‘

’’شیخ صاحب! آپ کے چھ نکات شکل و صورت سے بڑے خطرناک دکھائی دیتے ہیں، مگر آپ تو ایسے نظر نہیں آتے۔‘‘

’’نہیں، قریشی صاحب! آپ کا گمان سو فی صد غلط ہے۔ ہمارے اور آپ کے عوام ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔ پاکستان برصغیر میں مسلمانوں کی متحدہ کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا اور انشااللہ اس کا پرچم ہمیشہ سر بلند وسرفراز رہے گا۔ میرے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی چاہتا ہوں۔ یہ سراسر بہتان اور افترا ہے۔ اگر میرا منصوبہ اسے آزاد کرانے کا ہوتا، تو میں ۲۲؍فروری۱۹۶۹ء کو اس کا اعلان کر سکتا تھا۔ میں جب جیل سے باہر آیا، تو لاکھوں انسان میرے گرد جمع تھے۔ میں ریس کورس میدان میں علیحدگی کا اعلان کر سکتا تھا۔ اس وقت مجھے روکنے والا کون تھا؟ میں نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ پاکستان کی تشکیل میں اپنا خون دیا ہے اور میں وطن کی سلامتی کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا۔‘‘

’’مگر آپ کے چھ نکات تو کچھ اور کہتے ہیں۔‘‘ میں نے گرمیٔ محفل میں جرأت رندانہ سے کام لیا۔

’’قریشی صاحب! چھ نکات قرآن اور بائبل تو نہیں اور ان پر نظرِثانی کی جا سکتی ہے۔ میں آپ کو صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ چھ نکات ظالم طبقے کے خلاف مظلوموں کی دلدوز آواز ہے۔ ہمیں مغربی پاکستان کے عوام سے کوئی کَد نہیں اور وہاں کی خوشحالی ہماری اپنی خوشحالی ہے۔ ہمیں صرف اس طبقے سے نفرت ہے جس نے کبھی سرکاری افسروں اور کبھی صنعت کاروں کے روپ میں ہمارے حقوق پر ڈاکے ڈالے اور بدقسمتی سے ان سب کا تعلق مغربی پاکستان سے ہے۔۔۔۔۔‘‘

سابق وزیراعظم چودھری محمد علی سے قریشی صاحب نے سوال کیا ’’آپ قائداعظمؒ اور شہیدِملت کے بہت قریب رہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کو کس نوعیت کی ریاست بنانا چاہتے تھے؟‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے کہنے لگے۔

’’یہ سوال آپ نہ پوچھتے تو اچھا تھا۔ اس میں کئی باتیں ایسی ہیں جنھیں اگر صاف صاف بتا دیا جائے تو غلط فہمیوں، شکوک اور فتنوں کے پرورش پانے کا خطرہ ہے، کیونکہ لوگ غلط معنی پہنانے کے خاصے ماہر ہیں۔ اتنی بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں محسن، پاکستان کو جدیدطرز کی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے اور انھیں پارلیمانی نظامِ حکومت پسند تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، اس لیے اس سرزمین میں اسلام کو ایک کارفرما حیثیت حاصل ہوگی۔‘‘

میری قریشی صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں لیکن میں بے خبر ہی رہا کہ اُن کے اندر ایک ہنستا، مسکراتا اور کسی قدر شرارت پر آمادہ شخص بھی بیٹھا ہے۔ ان کا دبیز پردوں میں نہاں یہ وصف تو تب عیاں ہوا جب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ کا مطالعہ کیا۔ ان کی تحریروں میں طنز کے نشتر بھی ہوتے ہیں، مزاح کی شبنمی ٹھنڈک بھی۔ اردگرد کے ماحول پر ہلکا پھلکا تبصرہ بھی، لیکن مجال ہے جو کہیں عام مزاح نگاروں کی طرح جگت بازی یا ذومعنی جملوں کا سہارا لیا گیا ہو۔ ان کے مزاح میں بھی وہی شائستگی ہے جو ان کی شخصیت میں نظر آتی ہے۔ ایک انٹرویو کی ابتدائی سطور میں لکھتے ہیں۔

’’یہ اپریل ۱۹۵۹ء کا ذکر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علم السیاست میں صبح دس بجے انٹرنیشنل لا کا پیریڈ تھا اور میں کلاس روم کے اندر آخری سیٹ پر بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ اونگھنے کی لت مجھے اس وقت پڑی تھی جب میں نے پہلی مرتبہ مغربی پاکستان کی اسمبلی میں ممبروں کو اگلی سیٹ پر اونگھتے دیکھا تھا۔ سر کا آہستہ آہستہ نیچے کی طرف ڈھلکنا، گردن کا نصف دائرہ بنانا اور پھر جھٹکے سے تن جانا، یہ منظر مجھے اتنا دلکش لگا کہ وزیٹر گیلری ہی میں اونگھنے کو جی چاہا لیکن یہ سوچتے ہوئے رک گیا کہ جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا۔ وزیٹر گیلری کے سارے معززین اونگھ رہے تھے۔‘‘

ضیاالحق مرحوم سے لیے گئے انٹرویو کی ابتدائی سطور یوں ہیں ’’وہ ۷ستمبر کی ایک طوفانی شب تھی۔ میں اسی شام لاہور سے راولپنڈی آیا اور پی آئی اے کا فوکر طیارہ فضا میں خم دار تنکے کی طرح ڈولتا رہا۔ یوں لگا جیسے ابھی ابھی دس ہزار فٹ کی بلندی سے زمین پر آ رہے گا۔ مجھے شدید خطرے کا احساس اس وقت ہوا جب ہم سفر مکھیوں نے زورزور سے بھنبھنانا شروع کیا اور ایک مکھی خاموشی سے میرے کان پر آ بیٹھی۔ سخت طیش میں اپنا ہی ہاتھ اپنے کان پر دے مارا اور اسی لمحے طیارہ چشمِ زدن میں کئی ہزار فٹ نیچے آ گیا۔

’’اے اللہ! میری توبہ! مجھ سے جو گناہ سرزد ہوئے، وہ معاف کر دے! وعدہ کرتا ہوں کہ مکھیوں کی شکایت اب کسی سے نہیں کروں گا۔‘‘ طیارے نے میری توبہ قبول کرنے سے باربار انکار کیا اور ایسے جھٹکے دیے کہ سیاست کے سارے جھٹکے یکسرفراموش ہو گئے۔۔۔۔۔ آج کل پی آئی اے کو مکھیوں سے بڑی محبت ہے۔ وہ انھیں ائیرہوسٹسوں کے ہم پلہ سمجھتے ہیں۔ طیارے میں جتنی ائیرہوسٹس ہیں، اتنی ہی مکھیاں بھنبھناتی ہیں۔ بعض اوقات ائیرہوسٹس غائب اور مکھیاں بنی ٹھنی حاضر۔‘‘

’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ قریشی صاحب کے ادبی ذوق کا ایسا مرقع ہے جس سے ادب، صحافت اور تاریخ کے طالب استفادہ کرتے رہیں گے۔

Note:

1) Add the product to Cart. Then Go to your cart at the top bar of the page. And checkout.

2) Choose Guest Checkout

3) Fill in your Name, Email, Cell phone, Address, Country and City. Please ignore the bug in which you have to choose Pakistani city. Just fill anything.

4) Choose Direct Pick Up from factory as Shipping Method. Don't worry you will get it at home every month.

5) Choose Pay via Credit/ Debit Card in payment method [only in case of online payment].

6) Choose Non-Filer in Tax Information

7) Add any more details if you want to mention, in the comment section and Confirm Order. It will take you to HBL Payment Gateway [only in case of online payment].

8) Fill in your card details and pay [only in case of online payment].

Let us know if you face any issue.


Write a review

Note: HTML is not translated!

Rating Bad           Good